مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایک سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اقوامِ متحدہ کی کارکردگی کے حوالے سے سیکریٹری جنرل کے اس بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہ جس میں انہوں نے کہا تھا کہ یہ ادارہ سپر پاورز کے درمیان جنگ کے وقوع کو روکنے کے حوالے سے کامیاب رہا ہے؛ لکھا ہے کہ ڈاگ ہیمرشولد نے ایک وقت خبردار کیا تھا کہ اقوامِ متحدہ کو بڑی طاقتوں کی طاقت پر مبنی سفارت کاری کے لیے محض بے نتیجہ کانفرنسیں منعقد کرنے والی ایک مشین تک محدود نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اسے چھوٹی ریاستوں کی سلامتی کے تحفظ کے لیے ایک متحرک ذریعہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے اپنی پوری ذمہ داری اسی نظریے کو آگے بڑھانے میں صرف کی۔
انہوں نے مزید لکھا کہ لیکن آج اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بظاہر اس ادارے کے مشن کو صرف سپر پاورز کے درمیان جنگ روکنے کی حد تک محدود کر رہے ہیں۔ یہ محدود تعبیر نہ صرف گمراہ کن، بلکہ خطرناک بھی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے منشور کی دفعہ 2 کی شق 4 کی ایسی تشریح اقوامِ متحدہ کے اکثریتی ارکان کو غیر متعلق قرار دیتی ہے، تقریباً ہر جنگ کو جواز فراہم کرتی ہے، منشور کے بنیادی اصولوں اور مقاصد کو بے معنی بنا دیتی ہے اور اس سے بھی بڑھ کر، ان نام نہاد سپر پاورز کی جانب سے دوسروں پر جارحیت کے دوران کیے جانے والے جرائم پر پردہ ڈالتی ہے۔
بقائی نے مزید لکھا ہے کہ اس معیار کے مطابق، کوریا، ویتنام، کانگو، عراق، افغانستان، یمن، سوڈان اور غزہ میں ہونے والی جنگیں اور جرائم سب کامیابیاں شمار ہوں گے، کیونکہ یہ جنگیں سپر پاورز کے درمیان نہیں ہوئیں۔
انہوں نے آخر میں سوال کیا کہ کیا یہ ایک سیکریٹری جنرل کی جانب سے اپنی مدتِ ذمہ داری کے اختتام کے قریب دیا جانے والا موزوں پیغام ہے؟
آپ کا تبصرہ